Skip to main content

نہ خان بدلا نہ اُس کا بیانیہ



 نہ خان بدلا نہ اُس کا بیانیہ



کچھ عرصہ سے تحریک انصاف کی موجودہ لیڈرشپ اپنی پریس کانفرنسوں ، ٹی وی ٹاک شوز اور میڈیا سے بات چیت کے دوران بار بار یہ بات باور کروانے کی کوشش کرتی رہی کہ تحریک انصاف اور اُس کی اعلیٰ قیادت نہ فوج مخالف ہے اور نہ ہی فوجی قیادت کے خلاف کسی انتقامی کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے لیکن عمران خان نے اکانومسٹ میں شائع ہونیوالے آرٹیکل میں پھر وہی باتیں، وہی الزامات دہرا دیے جو وہ اپنی گرفتاری سے پہلے فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے متعلق کہتے تھے۔

چند دن پہلے ایک پریس کانفرنس میں موجودہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر علی خان نے تو اس خواہش کا بھی اظہار کیا تھا کہ تحریک انصاف تو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات ٹھیک کرنے کیلئے اُن سے ڈائیلاگ کرنا چاہتی ہے۔تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنی گرفتاری سے قبل ہی ایک کمیٹی بنا دی تھی جس کا مقصد اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے ذریعے معاملات کو درست کرنا تھا۔ 

عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں کو اس معاملے پر پریشان پایا کہ تمام تر کوشش کے باوجود پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بداعتمادی کا ماحول ختم نہیں ہو رہا اور نہ ہی موجودہ اسٹیبلشمنٹ سے پارٹی کا کسی بھی سطح پر کوئی رابطہ ہو رہا ہے۔ فوج کے ساتھ اپنے تلخ ماضی کو بھلا کر تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کرتی رہی۔

یہ بھی تاثر دیا جاتا رہا کہ عمران خان بھی ،کسی بھی طرح فوج سے نہ لڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی فوجی قیادت کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کارروائی کا ارادہ رکھتے ہی۔تحریک انصاف کے ایک اور رہنما کا کہنا تھا کہ ہر قسم کی گارنٹی بھی دی جا سکتی ہے کہ عمران خان آئندہ اُس بیانیہ کو نہیں دہرائیں گے جو پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بدگمانی کی وجہ بنا اور اگر تحریک انصاف دوبارہ حکومت میں آتی ہے تو وہ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراو والی صورتحال ہر گزپیدا نہیں کرے گی۔

میں نے خود تحریک انصاف کے ایک رہنما سے پوچھا کہ کون عمران خان کی گارنٹی دے گا کہ وہ اپنے ماضی قریب کو نہیں دہرائیں گے اور فوج سے دوبارہ لڑائی نہیں کریں گے اور ماضی کے الزامات نہیں دہرائیں گے؟ اس رہنما نے یقین دلایا کہ بہت کچھ بدل چکا، عمران خان کی بھی گارنٹی دی جا سکتی ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان ماضی قریب کے اپنے متنازع فوج مخالف بیانیہ کو نہیں دہرائیں گے لیکن خان صاحب کے بیرون ملک شائع ہونے والے مضمون نے تو ثابت کر دیا کہ نہ عمران خان بدلے ہیں نہ اُن کے الزمات اور نہ ہی اُن کا بیانیہ۔

 اسٹیبلشمنٹ، فوج، سیکورٹی ایجنسیوں اور سول بیوروکریسی کا نام لے کر عمران خان نے کہا کہ وہ تحریک انصاف کو انتخابات میں لیول پلئینگ فیلڈ نہیں دے رہے۔ اُنہوں نے نہ صرف اسٹیبلشمنٹ کا نام لے اپنی حکومت کے خاتمہ کی امریکی سازش کاذکر کیا بلکہ یہ الزامات بھی دہر دیے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اُنہیں دوبارہ اقتدار میں نہ آنے دینے کا فیصلہ بھی کیا ، اُن پر دو قاتلانہ حملے ہوئے۔9 مئی کے حوالے سے بھی یہ کہا کہ اُس میں تحریک انصاف پر جھوٹا الزام لگایا کہ پی ٹی آئی نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔

 عمران خان نے لکھا کہ 9 مئی دراصل ایک فالس فلیگ یعنی جعلی آپریشن اور سوچا سمجھا منصوبہ تھا جس کی بنیاد پر تحریک انصاف کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، کئی رہنماوں اور اُنکے خاندانوں پر تشدد کیا گیا، اُن پر دباؤڈالا گیا تاکہ تحریک انصاف کو کمزور کیا جائے۔ عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے بارے میں بھی لکھا کہ عدالتیں ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی ساکھ کھو رہی ہیں۔

 گویا عمران خان نہ بدلے نہ ہی فوج مخالف بیانیہ سے پیچھے ہٹے۔ اکانومسٹ کے اس مضمون نے تحریک انصاف کے اُن رہنماؤں کیلئے مشکلات پیدا کر دیں ہیں جو پارٹی کے فوج مخالف بیانیہ کو پیچھے چھوڑ کر آگے نکلنے کا راستہ پیدا کرنا چاہ رہے تھے۔ موجودہ چیئرمین بیرسٹر گوہر سے جب خان صاحب کے مضمون کے بارے میں سوال کیاگیا تو اُنہوں نے یہ تاثر دیا جیسے یہ مضمون خان صاحب نے لکھا ہی نہیں۔ میں نے گوہر صاحب سے بات کی جس پر اُنہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز اپنی ملاقات میں وہ خان صاحب سے مضمون کے متعلق تو نہیں پوچھ سکے لیکن سوموار کے دن بانی چیئرمین سے پوچھیں گے کہ کیا یہ مضمون اُنہوں نے ہی لکھا؟ تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات نے اگرچہ یہ مانا کہ مضمون عمران خان کا ہی ہے لیکن وہ یہ بات ماننے سے انکاری ہیں کہ اس مضمون میں کچھ بھی فوج اور اسٹیبلشمنٹ کیخلاف ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Applications Open For 6th Cycle Of Start-up Incubation Under The National Expansion Plan Of NICs

  National Expansion Plan of National Incubation Centers (NEP-NICs) Program, a collaborative effort of the Punjab Information Technology Board (PITB) and Ministry of Information Technology and Telecommunication (MoITT), has opened applications for the 6th cycle of its startup incubation program across Pakistan LAHORE (UrduPoint / Pakistan Point News - 29th Mar, 2024) National Expansion Plan of National Incubation Centers (NEP-NICs) Program, a collaborative effort of the Punjab Information Technology Board (PITB) and Ministry of Information Technology and Telecommunication (MoITT), has opened applications for the 6th cycle of its startup incubation program across Pakistan. In partnership with the public universities, as many as 13 tech incubation centers have been set up across the country where startups are provided with free of cost workspace, mentorship, networking opportunities, monthly stipend, business support and legal guidance for a period of six months. The incubation ...

خان صاحب عوام پوچھ رہی ہے اب تھوڑا گبھرا لیں۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کے باعث حکومت کو نہ صرف اپوزیشن بلکہ اپنے عوام کی طرف سے بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے  ۔ ان میں سے ایک مشہور اداکارہ وینا ملک بھی ہیں۔ اداکار وین ملک ، جوکہ تحریک انصاف کے حق میں اور اپوزیشن کے خلاف سوشل میڈیا پر تقریر کرتی ہیں۔ وہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور پیپلز پارٹی کے صدر بلاول بھٹو زرداری پر خصوصی طور پر حملہ کرتی رہتی ہیں۔لیکن انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں پر بھی آواز اٹھادی۔ ایک ٹویٹ میں وینا ملک نے وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ، "جناب ، لوگ پوچھ رہے ہیں ، 'اب ہم گبھرا   لیں؟ یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے جمعہ کے روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔       پٹرول کی قیمت میں 25.58 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 21.31 روپے کا اضافہ کیا گیا۔ پٹرولیم مصنوعات  کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق1 جولائی کی بجائے   27جون رات 12 بجے سے ہو چکا ہے۔

9 مئی ہم نے نہیں کیا اس پر انکوائری ہونی چاہیے: علی امین گنڈا پور

  9 مئی ہم نے نہیں کیا اس پر انکوائری ہونی چاہیے: علی امین گنڈا پور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے نامزد  وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نےکہا ہےکہ اگر  میری گرفتاری سے پاکستان کا فائدہ  ہوتا ہے تو میں تیار ہوں، 9 مئی ہم نے نہیں کیا اس پر انکوائری ہونی چاہیے۔ پشاور میں سینیئرصحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ہم صوبےکے حقوق کے لیے ضروربات کریں گے سب کو میرا ساتھ دینا ہوگا، ہم خیرات نہیں مانگ  رہے لیکن حقوق ضرور لیں گے، خاموش رہنےکی وجہ سے صوبےکا یہ حال ہوا ہے۔ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ 9 مئی ہم نے نہیں کیا اس پر انکوائری ہونی چاہیے،کچھ پی ٹی آئی کے سپورٹر گئے تو انہیں کیوں نہیں روکا گیا؟  رانا ثنااللہ کے گھر تو نہیں جانے دیا تھا، جس نے پریس کانفرس نہیں کی اسے پکڑا جا رہا ہے، میرے خلاف لاہور اور  میانوالی سمیت 9 اضلاع میں ایف آئی آر ہیں۔ نامزد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ہم نے ان باتوں کو چھوڑ کر  اب آگے بڑھنا ہے، اگر میری گرفتاری  سے پاکستان کا فائدہ ہوتا ہے تو میں تیار...