وہ کٹھن راستے جہاں سے ایرانی خوردنی تیل، پٹرول اور دیگر سستا سامان پاکستان کے شہروں تک پہنچتا ہے
’ہم بچے تھے تب سے سُن رہے ہیں کہ سمگلنگ بند ہو گی اور ایران کے ساتھ باقاعدہ طور پر تجارت شروع کی جائے گی۔ یا تو اسے مکمل طور پر بند کر دیں یا پھر کوئی ایسی پالیسی بنائیں کہ یہ کام غیرقانونی نہ رہے۔‘
یہ کہنا ہے کراچی کے یوسف گوٹھ بازار میں بیٹھے دکاندار نقیب اللہ کا۔
سمگلنگ کہیں یا غیر رسمی تجارت، سچ تو یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں جگہ جگہ ایرانی سامان کی خرید و فروخت ہو رہی ہے۔ اور جو سامان ایک وقت میں صرف بلوچستان کے سرحدی علاقوں تک محدود تھا وہ اب پاکستان کے مختلف شہروں کے بازاروں میں سستے داموں دستیاب ہے۔ چاہے وہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا اتوار بازار ہو یا پھر راولپنڈی کا ننکاری بازار یا باجوڑ پلازہ، یا پھر کراچی کا یوسف گوٹھ، اس وقت تھوک کے حساب سے یہ سامان ایران سے پاکستان پہنچ رہا ہے۔
لیکن ان تمام تر تفصیلات میں جانے سے پہلے ذرا یہ جان لیتے ہیں کہ کہانی دراصل ہے کیا۔
ہ کہانی دراصل دو ملکوں کے درمیان غیر رسمی تجارت کی ہے۔ ایران اور پاکستان کو اس وقت ایک دوسرے کی اشد ضرورت ہے۔ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کو برآمدات میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور ایسے میں پاکستان سے سرحد جڑنے کے نتیجے میں وہ وہاں سے سامان کے بدلے سامان دے اور لے سکتا ہے۔ جبکہ مہنگائی اور ڈالر کے بڑھتے ریٹ کو دیکھتے ہوئے پاکستان کا انحصار اس وقت ایرانی سامان پر بڑھ رہا ہے۔
اس رپورٹ میں ہم دو ایسی مصنوعات یعنی پٹرول اور خوردنی تیل کی ایران سے پاکستان آمد اور پھر بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے اس کی پاکستان کے مختلف شہروں تک ترسیل کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے۔
’ہم بچے تھے تب سے سُن رہے ہیں کہ سمگلنگ بند ہو گی اور ایران کے ساتھ باقاعدہ طور پر تجارت شروع کی جائے گی۔ یا تو اسے مکمل طور پر بند کر دیں یا پھر کوئی ایسی پالیسی بنائیں کہ یہ کام غیرقانونی نہ رہے۔‘
یہ کہنا ہے کراچی کے یوسف گوٹھ بازار میں بیٹھے دکاندار نقیب اللہ کا۔
سمگلنگ کہیں یا غیر رسمی تجارت، سچ تو یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں جگہ جگہ ایرانی سامان کی خرید و فروخت ہو رہی ہے۔ اور جو سامان ایک وقت میں صرف بلوچستان کے سرحدی علاقوں تک محدود تھا وہ اب پاکستان کے مختلف شہروں کے بازاروں میں سستے داموں دستیاب ہے۔ چاہے وہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا اتوار بازار ہو یا پھر راولپنڈی کا ننکاری بازار یا باجوڑ پلازہ، یا پھر کراچی کا یوسف گوٹھ، اس وقت تھوک کے حساب سے یہ سامان ایران سے پاکستان پہنچ رہا ہے۔
لیکن ان تمام تر تفصیلات میں جانے سے پہلے ذرا یہ جان لیتے ہیں کہ کہانی دراصل ہے کیا۔
ہ کہانی دراصل دو ملکوں کے درمیان غیر رسمی تجارت کی ہے۔ ایران اور پاکستان کو اس وقت ایک دوسرے کی اشد ضرورت ہے۔ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کو برآمدات میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور ایسے میں پاکستان سے سرحد جڑنے کے نتیجے میں وہ وہاں سے سامان کے بدلے سامان دے اور لے سکتا ہے۔ جبکہ مہنگائی اور ڈالر کے بڑھتے ریٹ کو دیکھتے ہوئے پاکستان کا انحصار اس وقت ایرانی سامان پر بڑھ رہا ہے۔
اس رپورٹ میں ہم دو ایسی مصنوعات یعنی پٹرول اور خوردنی تیل کی ایران سے پاکستان آمد اور پھر بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے اس کی پاکستان کے مختلف شہروں تک ترسیل کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے۔
بلوچستان کے سرحدی علاقے اور ایرانی پٹرول
اس کہانی کی شروعات بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے ہوتی ہے جہاں پر سڑکیں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں، اور کچے راستوں کے ذریعے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں ڈرائیور ایرانی سرحد تک پٹرول کےکنستر لاتے اور لے جاتے ہیں۔
اس سامان کی آمد و رفت کو کچھ لوگ سمگلنگ کا اور کچھ غیر رسمی معیشت کا نام دیتے ہیں۔ غیر رسمی معیشت کہنے کے پیچھے یہاں کے مقامی افراد یہ وجہ بتاتے ہیں کہ صدیوں سے بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کی کمائی کا دارومدار ایرانی سامان کی تجارت پر رہا ہے۔
ماشکیل تک دو راستوں سے پہنچا جاسکتا ہے۔ یا تو کوئٹہ سے دالبندین کے راستے یا پھر گوادر پہنچنے کے بعد پنجگور کے راستے۔ اور دونوں راستوں کو چننے میں ایک بات مشترکہ ہے کہ ماشکیل تک جانے کا تقریباً پانچ گھنٹے کا راستے انتہائی خستہ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں سفر کرنے کے دوران اکثر بتایا جاتا ہے کہ جہاں تک پکی سڑک بنی ہوئی ہو اس کا مطلب ہے کہ یہاں تک پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رسائی ہے۔ اور اگر سڑک کچّی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہاں یا تو حکام نہیں ہیں یا پھرسرمچار (بلوچ عسکریت پسند) موجود ہیں۔
ماشکیل جانے والی اسی کچّی سڑک پر سمگلنگ کے تین مختلف راستے ہیں جن کے ذریعے پٹرول کے علاوہ انسانی سمگلنگ بھی ہوتی ہے۔ اسی راستے پر مقامی ڈرائیور خاصی مہارت سے روز گاڑی ایک کونے سے دوسرے کونے تک لے جاتے ہیں۔
اس راستے پر پہنچنے کے بعد مجھے تاکید کی گئی کہ ایک کچی سڑک کے برابر چلتے رہنا ہے۔ کیونکہ تھوڑا سا بھی بھٹکنے پر آپ پٹرول کی سمگلنگ کے ٹریک پر چلنے کے بجائے انسانی سمگلنگ کے ٹریک پر چلنے لگیں گی جس کے بعد سرحد پر پہنچنے پر ایرانی حکام فائرنگ بھی کر سکتے ہیں۔
ماشکیل کے لیے صبح سویرے نکلنے کے دو گھنٹے کے بعد تک راستے میں کوئی بھی نظر نہیں آیا۔ اس کے بعد روشنی ہونے پر یکے بعد دیگرے کئی نیلے رنگ کے پِک اپ ٹرک نظر آئے۔ ان گاڑیوں کو عام زبان میں ’زمباد‘ کہا جاتا ہے جبکہ ایران میں ’زمیاد‘ کہا جاتا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ لگا کہ شاید پورے راستے کوئی دکھے گا ہی نہیں یہ وہ وقت تھا جب ہم سوچ رہے تھے کہ اگر اس راستے پر گاڑی کا پہیہ پھٹ گیا تو کیا کریں گے؟
تقریباً چار گھنٹے سفر کرنے کے بعد ہمیں ایک خیمہ نظر آیا۔ اور اس جگہ پہنچ کر کچھ زندگی کے آثار نظر آئے۔ یہ خیمہ دراصل کھانے پینے کے سٹاپ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہاں پر بڑے بڑے ٹرک اور گاڑیاں آ کر رکتی ہیں جہاں پر ان کو ایرانی بسکٹ اور چائے دی جاتی ہے۔
مجھے بتایا گیا کہ اس جگہ کو بلوچی میں ’دُریگ‘ کہتے ہیں جس کا مطلب مٹی کا ڈیرہ بتایا گیا۔ اور یہاں پر آس پاس صرف مٹی ہی تھی جس میں یہی بڑے بڑے ٹرک چائے پینے کے بعد جیسے غائب ہو جاتے تھے۔
ماشکیل کی معاشی حالت یہ ہے کہ اگر ایک روز ایرانی بارڈر بند ہو جائے تو مقامی افراد میں نوبت فاقوں کی آ جاتی ہے۔ پٹرول اور ڈیزل پہنچانے والوں کی ایک روز کی دیہاڑی ماری جاتی ہے اور دوسرے روز بارڈر کھلنے پر زیادہ پیسے کمانے کے لیے دباؤ بڑھ جاتا ہے۔


Comments
Post a Comment
If you have any doubt, please let me know.