نتخابات لڑنے والوں کا ڈیٹا الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری کیا جائے۔ لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 21 نومبر 2023ء ) عدالت نے آئین کے آرٹیکل 62 ،63 پرعملدرآمد کروانے کی درخواست پر نوٹسز جاری کردیئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 62 ،63 پرعملدرآمد کروانے کے لیے دائر متفرق درخواست پر الیکشن کمیشن، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹسز جاری کردیئے گئے، اس حوالے سے درخواست پر جسٹس شاہد کریم نے کیس کی سماعت کی۔بتایا گیا ہے کہ شہری منیر احمد نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے درخواست دائرکی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عام انتخابات 8 فروری کو ہونے جارہے ہیں، اس سلسلے میں ہماری درخواست ہے جو امیدوارالیکشن لڑنے کے لیے میدان میں اترے اس کا تمام ڈیٹا الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پرموجود ہو، اس مقصد کے لیے الیکشن کمیشن کو مراسلے لکھے لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا، اس لیے عدالت الیکشن کمیشن کو ڈیٹا مرتب کرکے ویب سائٹ پر جاری کرنے کا حکم دے۔ادھر الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق تیار کرتے ہوئے الیکشن شیڈول کے ساتھ جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا، الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے تیار کیا ہے، الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کی تجاویز کو بھی ضابطہ اخلاق میں شامل کیا ہے، ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں، امیدوار نظریہ پاکستان اور پاکستان کی خود مختاری و سالمیت کے خلاف بات نہیں کریں گے، سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کے دوران الیکشن کمیشن کی تضحیک سے اجتناب کریں گے، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ضابظہ اخلاق میں درج ہے کہ سیاسی جماعتیں، امیدوار کسی بھی دوسرے شخص کو بطور امیدوار دستبردار ہونے کے لیے تحائف، لالچ یا رشوت دینے سے گریز کریں گے، سیاسی جماعتیں، امیدوار انتخابی عملہ اور پولنگ ایجنٹس کے تحفظ کے لیے سکیورٹی فورسز سے مکمل تعاون کریں گے، سیاسی جماعتیں کسی بھی اسمبلی میں جنرل نشستوں پر 5 فیصد خواتین کوٹہ پر عملدرآمد یقینی بنائیں گی۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ضابطہ اخلاق میں سیاسی جماعتیں، امیدوار پولنگ کے دن تشدد کی ترغیب سے سختی سے اجتناب کی ہدایت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ہتھیار اور آتشیں اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی ہو گی، عوامی اجتماعات، پولنگ سٹیشن کے اطراف میں ہوائی فائرنگ اور پٹاخوں کی اجازت نہیں ہو گی۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے امیدوار الیکشن میں ایک کروڑ روپے تک اخراجات کر سکیں گے، صوبائی اسمبلی کے امیدوار 40 لاکھ روپے سے زائد اخراجات نہیں کر سکیں گے، کامیاب امیدوار انتخابی اخراجات کی تفصیلات فوری ریٹرننگ افسران کو جمع کرائیں گے جب کہ الیکشن ایجنٹ کا متعلقہ حلقے کا ووٹر ہونا لازم قرار دیا گیا ہے۔
Comments
Post a Comment
If you have any doubt, please let me know.