Skip to main content

وقار ذکا پاکستان ای سپورٹ کو بچانے کے لیئے میدان میں اتر آئےاور ان کے ساتھ ہیں سعد الرحمٰن العروف ڈکی بھائی۔

پب جی اس وقت دنیا بھرمیں کھیلے جانے والی نہ صرف آن لائن  گیم کی حثیت رکھتی ہے بلکہ یہ گیم دنیا بھر میں لوگوں کا زریعہ معاش بن چکی ہے۔ دنیا بھر میں اس گیم کی بدولت لوگ اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔ مختلف ممالک  میں اس گیم کا ٹورنامنٹ کرایا جاتا ہے جس سے مختلف پلئیر اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر انعامات جیتتے ہیں۔ یہ گیم صرف ٹورنامنٹ کی حد تک ہی نہیں رکی بلکہ اس گیم کو لے کر دنیا بھر میں موجود پب جی پلئیر زنے اس گیم کو مختلف پلیٹ فارم  مثلاً یوٹیوب، فیسبک ، اور ٹویچ  پر  لائیو سٹریم کر کے اپنا بزنس سٹارٹ کیا اور جس کی بدولت انہوں نے اچھی خاصی انکم کمانا شروع کی۔ پاکستان میں موجود ٹیلنٹ بھی پیچھے نہیں رہا اور ایک سال کی انتھک محنت کے بعد ای سپورٹ میں 11 پوزیشن کی رینکنگ حاصل کر چکا ہے۔ شروع میں پاکستان میں انٹرنیٹ کی بدولت پب جی کی پِنگ کا بہت مسئلہ درپیش رہا لیکن پاکستان میں موجود پب جی پلئیرز نے ثابت کر دکھایا کہ چاہے جتنی بھی مشکلات کیوں نہ ہوں پاکستان کسی سے کم نہیں ہے۔ پاکستان میں موجود ٹیلنٹ کو دیکھتے ہوئے پب جی کمپنی نے پاکستان کے ایک الگ سرور کا انتظام کر دیا جس سے پاکستان میں موجود پِنگ کا مسئلہ حل ہو گیا اور پب جی کمپنی نے باقاعدہ اس بات کا اعلان بھی کیا کہ انہوں نے پاکستان کے لیے ایک الگ سرور بنا دیا  جوکہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ پاکستان میں موجود ٹیلنٹ کو دیکھتے مختلف کمپنیز نے یہاں پر ٹورنامنٹ منعقد کرائے۔ان ٹورنامنٹ کی بدولت سب سے بڑا فائدہ پاکستان کی اکانومی کو ہوا اور پاکستان میں فورین کرنسی کا آنا شروع ہو گیا ۔

 

لیکن دیکھتے ہی دیکھتے یکم جولائی کو پاکستان ٹیلی کمیونکیشن نے پب جی پر عارضی پابند عائدکر دی۔ اور پابندی کی وجہ بچوں کی خودکشی بتائی گئی۔ کچھ زرائع سے پتہ چلا ہے کہ جس بچے کی خودکشی کا بتایا جارہا ہے اس کے حقائق کچھ اور ہیں جو کہ آنے والے دنوں میں میں واضع کردوں گا۔  اب پی ٹی اے کا پب جی کو بین کرنے کے پیچے اصل حقائق کیا ہیں یہ بھی بہت جلدآپ لوگوں کے سامنےآ جائیں گے۔

اس پب جی بین ہونے پر سب سے زیادہ نقصان ان لوگوں کا ہوا جن کے گھر کاخرچ اس گیم کی بدولت پورا ہو رہا تھا۔ بہت سے لوگوں نے یوٹیوب پر اپنے چینل بنا رکھے تھےاور اس سے اپنی انکم حاصل کر رہے تھے۔ ان سب کا کاروبار ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا  اور وہ بچارے اس قدر ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں کہ مجھے ڈر ہے کہ خدانخواستہ آنے والے دنوں میں ان کی خودکشی کی خبر سننے کو نہ ملے۔

 

اس ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے مسٹر وقار ذکا ان مایوس نوجوانوں کا سہارا بننے کے لیے کھڑے ہوئے۔ وقار زکا تعلق بذات خود گیمز سے نہیں ہے لیکن انہوں نے محسوس کیا کہ ملک نوجوانوں کا مستقبل خطرے میں ہے ۔ انہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ چاہے ان کا کوئی ساتھ دے یا نہ دے وہ ملک کے نوجوانوں کے لیے لڑتے رہیں ۔ اس ویڈیو پیغام کے اگلے روز ہی وہ سندھ ہائی کورٹ پہنچ گئے اور اپنا کیس دائر کر دیا۔ اس سب میں مسٹر وقار زکا کوئی زاتی مفاد شامل نہیں ہے ان کا اگر کوئی مفاد ہے تو صرف یہ کہ پاکستان میں موجود ٹیلنٹ کسی حال میں نہ دبایا جائے۔ وہ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے اعظیم سہارا اور مددگار ثابت ہورہے ہیں۔ وقار ذکا روزانہ کی بنیاد پر نہ صرف اپنے ویڈیو پیغام کے زریعے نوجوانوں کو گائیڈ کر رہے ہیں بلکہ ان کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں اور ہر ممکن مدد کر نے کا وعدہ کیا ہے۔ چاہے وہ فنانشیل سپورٹ ہی کیوں نہ ہو۔ ان کے ساتھ ساتھ سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی بھی نوجوانوں کا ساتھ دے رہیں۔

ڈکی بھائی ایک یوٹیوبر روسٹر کے نام سے جانے جاتےہیں ۔ ان کی پہچان نہ صرف پاکستان بلکہ پڑوسی ملک بھارت میں بھی خاصی زیادہ ہے۔ وقار  ذکا اور ڈکی بھائی نے یوٹیوب سیشن کا انعقاد کیا جس میں انہوں نے پی ٹی اے کے عہدیداروں کو مدعو کیا تاکہ وہ جان سکیں کہ ان کے اس اقدام سے کس کس کو کتنا نقصان ہو رہا ہے۔ اس سیشن میں انہوں نے چند یوٹیوبرز کو اپنے ساتھ لائیو لیا  ان یوٹیوبر ز میں سٹار اناونمس ، احمد، مسٹر جے، ڈاکٹر پکاچو اور چند اور یوٹیوبرز بھی شامل تھے،  جس میں انہوں نے واضع کیا کہ ان کو کتنا نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ یہ ویڈیو مسٹر وقار ذکا کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

 

              


Comments

Popular posts from this blog

Applications Open For 6th Cycle Of Start-up Incubation Under The National Expansion Plan Of NICs

  National Expansion Plan of National Incubation Centers (NEP-NICs) Program, a collaborative effort of the Punjab Information Technology Board (PITB) and Ministry of Information Technology and Telecommunication (MoITT), has opened applications for the 6th cycle of its startup incubation program across Pakistan LAHORE (UrduPoint / Pakistan Point News - 29th Mar, 2024) National Expansion Plan of National Incubation Centers (NEP-NICs) Program, a collaborative effort of the Punjab Information Technology Board (PITB) and Ministry of Information Technology and Telecommunication (MoITT), has opened applications for the 6th cycle of its startup incubation program across Pakistan. In partnership with the public universities, as many as 13 tech incubation centers have been set up across the country where startups are provided with free of cost workspace, mentorship, networking opportunities, monthly stipend, business support and legal guidance for a period of six months. The incubation ...

خان صاحب عوام پوچھ رہی ہے اب تھوڑا گبھرا لیں۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کے باعث حکومت کو نہ صرف اپوزیشن بلکہ اپنے عوام کی طرف سے بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے  ۔ ان میں سے ایک مشہور اداکارہ وینا ملک بھی ہیں۔ اداکار وین ملک ، جوکہ تحریک انصاف کے حق میں اور اپوزیشن کے خلاف سوشل میڈیا پر تقریر کرتی ہیں۔ وہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور پیپلز پارٹی کے صدر بلاول بھٹو زرداری پر خصوصی طور پر حملہ کرتی رہتی ہیں۔لیکن انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں پر بھی آواز اٹھادی۔ ایک ٹویٹ میں وینا ملک نے وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ، "جناب ، لوگ پوچھ رہے ہیں ، 'اب ہم گبھرا   لیں؟ یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے جمعہ کے روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔       پٹرول کی قیمت میں 25.58 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 21.31 روپے کا اضافہ کیا گیا۔ پٹرولیم مصنوعات  کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق1 جولائی کی بجائے   27جون رات 12 بجے سے ہو چکا ہے۔

9 مئی ہم نے نہیں کیا اس پر انکوائری ہونی چاہیے: علی امین گنڈا پور

  9 مئی ہم نے نہیں کیا اس پر انکوائری ہونی چاہیے: علی امین گنڈا پور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے نامزد  وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نےکہا ہےکہ اگر  میری گرفتاری سے پاکستان کا فائدہ  ہوتا ہے تو میں تیار ہوں، 9 مئی ہم نے نہیں کیا اس پر انکوائری ہونی چاہیے۔ پشاور میں سینیئرصحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ہم صوبےکے حقوق کے لیے ضروربات کریں گے سب کو میرا ساتھ دینا ہوگا، ہم خیرات نہیں مانگ  رہے لیکن حقوق ضرور لیں گے، خاموش رہنےکی وجہ سے صوبےکا یہ حال ہوا ہے۔ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ 9 مئی ہم نے نہیں کیا اس پر انکوائری ہونی چاہیے،کچھ پی ٹی آئی کے سپورٹر گئے تو انہیں کیوں نہیں روکا گیا؟  رانا ثنااللہ کے گھر تو نہیں جانے دیا تھا، جس نے پریس کانفرس نہیں کی اسے پکڑا جا رہا ہے، میرے خلاف لاہور اور  میانوالی سمیت 9 اضلاع میں ایف آئی آر ہیں۔ نامزد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ہم نے ان باتوں کو چھوڑ کر  اب آگے بڑھنا ہے، اگر میری گرفتاری  سے پاکستان کا فائدہ ہوتا ہے تو میں تیار...