لوگ کہتے ہیں پاکستان بہت تقسیم ہے۔آگنائزڈ ملک نہیں
ہے۔معاشی طور پر بیکورڈ ہے یہاں کرپشن ، انتہا پسندی اور نا انصافی بے انتہا
ہے۔خواتین اور غریبوں کو برابر کے حقوق بھی نہیں ملتے۔کچھ عرصہ پہلے تک دہشت گردی
بھی تھی۔ یہ سب کچھ ہے لیکن اس کچھ کے باوجود یہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔آئیے
کچھ سوالات پر نظر ثانی کرتے ہیں۔۔
کیا انتہا پسند یا دہشت گرد پاکستان کو جھکا سکتے ہیں؟
پاکستان کو پچھلے کئی دہائیوں میں سب سے بڑا چیلنج اندرونی
دہشت گردی کی صورت میں ملا تھا۔ 11/9 کے بعد شمالی علاقوں اور خاص طور پر پاکستان
کے وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان رفتہ رفتہ
ایک طاقتور شکل اختیار کرنے لگی تھی۔پاکستانی فورسز پر عنلے اور شہروں میں
دھماکے بھی ہونے لگے تھے اور پھر ایک پنڈورا باکس کھلا ۔ وہ ایسے کہ اس دہشت گردی
میں شعیہ سنی جنگ، فورسز کے خلاف امریکہ مخالف جذبات، اسلامی انقلاب کے کچھ جگہوں
پر نعرے اور بیرونی ایجنسیز کے پے رول پر موجود کرائے کے قاتل۔ یہ سب متحرک ہو
گئے۔ لیکن ان سب کے اوپرایک مسنوئی لباس ایسا تھا کہ جیسے یہ سب کچھ مذہب کے نام
پر کیا جا رہا ہے۔پاکستانی ریاست اور خاص طور پر فوج کے ادارے کویہ ایک مشکل صورت حال درپیش تھی۔
ان دہشت گردوں کو زیادہ تر پاک افغان بارڈر اور وزیرستان کے کچھ پہاڑی علاقوں میں
پناہ ملتی تھی۔ اس مشکل ترین صورت حال میں دگنی مشکل اس وقت آئی جب قبائیلی علاقوں
میں آپریشن کرنے کا سوچا گیا۔جولائی 2002ء میں پاکستانی فوج 55سال میں پہلی بار
قبائیلی علاقوں میں داخل ہوئی۔یہ ایک پچیدہ اور مشکل ترین فیصلہ تھا کیونکہ یہ وہ
علاقے تھے جنہیں انگریز کے زمانے سے آزاد اور خود مختار رکھا گیا تھا۔یہ بندوبستی
علاقے نہیں تھے۔ یہ لوگ کسی بھی بیرونی مداخلت کو حملہ تصور کرتے تھے۔اس لیے اس
جگہ پر موجود ملیٹن کے خلاف آپریشن کرنے میں تخیر بھی ہوئی۔لیکن جب ایک بار یہ
آپریشن شروع ہو گیا تو رفتہ رفتہ پاکستانی سوسائیٹی ، ملٹری مذہبی طبقے اور سیاسی
جماعتیں ایک پیج پر آتی چلی گئیں اور پاکستان نے ایک دہائی میں یہ مشکل ترین جنگ
جیت لی۔ان علاقوں میں موجود انتہا پسندوں کو گرفتار بھی کیا، دہشت گردوں کو نشانہ
بھی بنایااور مقامی لوگوں کو پُرامن زندگی کی طرف لوٹایا بھی۔ ماہرین کی نظر میں
ایسا اس لیے ممکن ہوا کہ پاکستان کے پاس ایک طاقت ،اعلیٰ تربیت یافتہ اور ایک
ڈسپلن فوج موجود ہے۔انتہا پسندی کے خلاف اس مشکل جنگ میں بہت سے المیوں نے تو جنم
لیالیکن پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ وہ دنیا کی مشکل ترین جنگ جیت سکتا ہےاور وہ
بھی اپنے بل بوتے پر۔ حالانکہ یہی چیلنج افغانستان ، اعراق ، شام اور لیبیا میں جب
پیش آیا تو بیرونی افواج کو مداخلت کرنا پڑی پھر بھی امن قائم نہیں ہوسکا۔ تو اس
لیے اس سوال کا جواب ایک بہت بڑے نہیں کی صورت میں ہے کہ پاکستان کو کوئی دہشت
گردی کی لہر ختم کر سکتی ہے یا جھکا سکتی ہے
کیا پاکستان 1971ءکی طرح دوبارہ ٹوٹ سکتا ہے؟
ٹریجڈی یہ نہیں کہ مشرقی پاکستان الگ ہوگیا ۔ شاید یہ سانحہ
ایک نہ ایک دن ہونا ہی تھا کیونکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان ایک ہزار میل
کا فاصلہ بیچ میں ایک دشمن ملک جس کی زبان، کلچر اور تاریخ ایک دوسرے سے بہت مختلف
ہے اور جہاں فاصلے ہوں وہاں غلط فہمیاں تو بے شمار ہوتی ہی ہیں ۔ اور پھر جب ہوا
دینے والے ہوں تو غلط فہمیاں دشمنیوں میں بھی بدل جایا کرتی ہیں" (اناطول
لیون اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ) کہ مشرقی پاکستان کو تو الگ ہونا ہی تھا یہ کوئی
ٹریجڈی نہیں ۔ تاریخ میں جغرافیے بدلتے رہتے ہیں لیکن اصل ٹریجڈی یہ تھی کہ یہ ایک
سیولائیزڈعلائیدگی ہونی چایئے تھی مگر ایک دلخراش سانحہ کی شکل میں واقع ہوئی۔"
کیا ایسا دوبارہ ہو سکتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں ۔ بنگال تاریخی اور فطری طور پر دریا
سندھ والی تہذیب کا حصہ کسی طرح کبھی نہیں تھا۔ پاکستان مشرقی پاکستان کے ساتھ 24
سال جیا۔لیکن اس کے بعد 50 سال کی شاندار تاریخ اور بھی ہے۔ یعنی زیادہ وقت گزر
چکا ہے۔پاکستانی اکائی میں اب ایسی کوئی فورٹ لائن نہیں ہےجو اسے 71ء کی طرح
دوبارہ دو لخت کر سکے۔اب پاکستان کی فوج پاکستان کی عوام سیاچن کے پہاڑوں سے گوادر
کےکے سالحوں تک ایک لڑی میں پروئی ہوئی قوم ہے جو اگر ایک نعرے پر یکجا ہے تو وہ
ہے پاکستان زندہ باد۔
کیا پاکستان معاشی طور پر فیل ہو کر ختم ہو سکتا ہے؟
پاکستان نے اپنی تاریخ میں کئی بار ایشین ٹائیگر بننے کی
کوشش کی ہے۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان اس خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں کر
سکا۔دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت سے بہت چھوٹا ملک اور بھارت سے کم
آبادی والا ملک پاکستان گروتھ ریٹ میں کئی بار بھارت کوپیچھے چھوڑ چکا ہے۔پاکستان
میں غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والوں کی تعداد 24 فیصد ہے۔ لیکن پاکستان میں وہ
غربت نہ ہونے کے برابر ہے جسے دنیا ایکسٹریم پاورٹی کہتی ہے اور پاکستان کے ہمسایہ
ممالک میں کہیں زیادہ نظر بھی آتی ہے۔ پاکستان میں کوئی بھوک سے خودکشی نہیں کرتا
یہی وجہ ہےکہ اس خطے میں انقلاب بھی نہیں آتے۔ پاکستان می سوشل فائیبر ایسا ہے کہ
یہاں فلاحی تنظیمیں اور مذہبی جماعتیں کبھی کسی بھی علاقے کو یا بڑی تعداد میں
لوگوں کو قحط جیسے حالات میں جانے سے بچا لیتے ہیں ۔
کرپشن۔
پاکستان میں کرپشن بھی بے تحاشہ ہے۔ بہت سے قومی
فائدے کے منصوبے اسی کی نظر ہو جاتے ہیں۔ لیکن اسے ایک اور اینگل سے بھی دیکھیں کہ جب
ریاست پاکستان جب کسی منصوبے کو تکمیل تک لے جانا چاہتی ہے تو تمام رکاوٹیں ،
معاشی بد حالیاں اورکرپشن کے باوجود مکمل کر دکھاتی ہے۔ ابھی چند ماہ پہلے تیار
ہونے والا کرتار پور کوریڈوراسی کا ثبوت ہے۔ جبکہ ماضی میں پاکستان کے طول و عرض
کو ملانے والی موٹرویز ایٹمی اور مزائیل پاورز، منگلہ اور تربیلا ڈیمیہ عظیم و شان
منصوبے اس بات کی زندہ مثالیں ہیں کہ جب کبھی پاکستانی ریاست نے کسی منصوبے کو
مکمل کرنے کا طے کر لیاتو وہ مکمل ہو کر رہا۔
یعنی مسئلہ کرپشن کا نہیں ۔ ہمارے ارادے کی مستقل مزاجی سے
کسی منصوبے کو فالو کرنا ہے۔مستقل مزاجی کی بات کیوں کر رہا ہوں؟ وہ اس لیے کہ
1971ء سے پہلےپاکستان جس معاشی پالیسی پر گامزن تھا اسے یکلخت ذوالفقار علی بھٹو کے
دور میں بدل دیا گیا۔ جس میں سب سے بڑی تبدیلی یہ تھی کہ تمام بڑی انڈسٹری اور
بنکس کو نیشنلائز کر دیا گیا ۔ لیکن یہ عمل اکانومی کے لیے ایک تباہ کن ثابت ہوا
۔ سب سے پہلے تو یہ ہوا کہ انویسٹر نے
پیسہ باہر منتقل کرنا شروع کر دیا۔پرائیویٹ انویسٹمنٹ اتنی کم ہو گئی کہ حکومت کے
لیے نوجوانوں کو نوکریاں دینا نا ممکن ہو گیا یہ حال ہو گیا کہ 1974ء سے 1977ء تک ایورج گروتھ
7۔2 فیصد تک آگئی۔ یہ پرسنٹیج بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے کم تھی۔ماہرین کے مطابق اگر
پاکستان میں ایک متفہ پالیسی بن جائے خواتین کو معاشی ترقی میں شامل کر دیا جائےتو
اسے واقعی اکنامک ایشین ٹائیگر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ یہ ہمارا پوٹینشل ہے اور دنیا اس سے نہیں روک
سکتی۔ یاد رہے کہ پاکستان 90ء کی دہائی میں جب امریکہ نےہم پر ایٹمی پروگرام بند
کروانے کے لیئےمعاشی پابندیا ں لگا رکھی تھی اس وقت بھی پاکستان نے معاشی طور پر
سروائیو کیا۔ اور نائن الیون کے بعد جیسے ہی امریکہ نے پابندیاں ختم کی تو پاکستان
ایک بار پھر 9 فیصد کے گروتھ ریٹ پر پہنچ گیا۔
کیا پاکستان اتنا ہی برا ہے جتنا میڈیا میں دکھایا جاتا ہے؟
سرکاری ڈیٹا کے مطابق پالستان
میں 90 سیٹیلائیٹ چینلزہیں جن میں سے 34 لیڈنگ چینلز ہیں 4983 کیبل چیننلز ہیں ہیں اور تمام ٹی وی چینلز اور انٹرنیٹ وغیرہ شامل کر لیں تو ساڑھے کروڑ
کے قریب وہ لوگ ہیں جو ان چینلز کو دیکھتے ہیں۔ نیوز چینلز کے بارے میں رائے یہ ہے
کہ یہ پاکستان کو بدنام زیادہ کرتے ہیں اور اور نیک نامی کم دیتے ہیںلیکن سوچیے
کیا کسی دور دراز علاقے میں جنسی زیادتی
کا شکار ہونے والی لڑکی کی خبریں چلانے سے پاکستان بدنام ہوتا ہے؟ کیا میڈیا کسی بری خبر کو بڑی بڑی ہیڈلائینز کے
ساتھ چلا کریہ دکھاتا ہے کہ پاکستان میں بہت خرابی ہے؟یا میڈیا کے مختلف سیکشن
سیاستدانوں کو ایمبیریس کرنے یا شرمندہ
کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے؟ یہ سب ہیں
لیکن اس کا ایک فائدہ بھی ہے۔ وہ شخص جو کل کسی سے زیادتی کر کے کل چھپ جاتا تھااب
کئی کئی دن ٹی وی رپورٹس اس کا پیچھا کرتی
ہیں یا اس حکمران یا متعلقہ سرکاری افسر کا پیچھا کرتی ہیں جنہیں مجرم پکڑنا
ہے۔ یہ ایک تبدیلی ہے جو رفتہ رفتہ پوری
سوسائیٹی میں آ رہی ہے۔ بہت حد تک سراہیت بھی کر چکی ہے۔ ایک عام آدمی سیاست کے
بارے میں جتنا کنسرنڈ آج ہےوہ انہی ٹی وی چینلز کی وجہ سے ہے۔ یہ سب ہنگامہ
پاکستانی سیاستدان اور ووٹرز کو میچور کرنے میں مدد گار ثابت ہو رہا ہے۔ یہ تصویر
کا ایک دوسرا مثبت رخ بھی ہے۔
کیا عالمی طاقتیں پاکستان کو ختم کرنا چاہتی ہیں؟
ایسی بہت سی سازشی تھیوریا ں دنیا میں اور پاکستان مین بھی
مشہور ہیں۔ لیکن کیا ایسا ممکن بھی ہے؟ نہیں۔ ایسا ممکن نہیں ۔ وہ اس طرح درحقیقت
عالمی برادری اور عالمی طاقتیں سمجھتی ہیں کہ پاکستان کا گر جانا معاشی طور پر یا
جغرافیائی طور پر دنیا کے لیے ایک ڈراونا
خواب ہے۔ وہ ایسے کہ پہلے ہی دنیا ایک غیر مستحکم افغانستان سے پریشان ہے۔ وہ ایک
ایسا خطہ بن چکا ہے جس کی جغرافیائی اہمیت تو بہت زیادہ ہے۔ لیکن وہاں حکومت ہر
کچھ سال بعد گر جاتی ہے۔ اس کی پورے ملک پر رٹ ہی نہیں رہتی۔ جس کی وجہ سے وہاں
ایسے عناصر کو پناہ لینے کا موقع ملتا ہےجو عالمی امن کے لیے یا عالمی طاقتوں کے
مفادات کے لیےخطرہ بن جاتے ہیں۔ اور پھر ان کے مقابلے کے لیے یا اس بہانےایک عالمی
طاقت آتی ہے اور دوسری طاقت اسے کاونٹر کرنے کی گریٹ گیم سٹارٹ کر دیتی ہے۔ تو
ایسے میں افغانستان کے ساتھ میں واقع ریاست پاکستان بھی کمزور ہو جائے، ریاست کی
اپنے ہی علاقوں پر رٹ ہی قائم نہ رہ سکےتو اس سارے مس سے چین بھارت ایران یہاں تک
کہ وسطی ایشیا اور امریکہ کے لیے کوفناک مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ یہاں تک کہ مشرق
وسطیٰ میں زمینی تجارت اور سمندری راسطے بھی غیر محفوظ ہو جائیں گے۔ (اناطول لیون
) کے مطابق امریکہ اور چین کا مفاد اسی میں ہےپاکستان جیسے اہم ترین ملک کو بھی سٹیبلائزڈ
ہونے سے بچایا جائے۔ اور کسی بھی ایسے چیلنجز میں پاکستان کی مدد کی جائےجس میں وہ
معاشی یا جغرافیائی طور پر گر سکتا ہو۔ بلکہ اصل میں چین اور امریکہ دونوں چاہتے
کہ پاکستان ان کے کیمپ میں رہے۔تاکہ جغرافیائی اہمیت کے اس خطے کو وہ اپنے مفادات
کے خلاف ہونے سے روک سکیں۔ ان دونوں بڑے ملکوں کی اس ضرورت کو پاکستان اپنے فائدے
کے لیے کیسے استعمال کر سکتا ہےیہ اب ہمارے اوپر ہے۔ خاص طور پر پاکستان کی
ایلکٹیڈ لیڈر شیپ کے اوپر۔
کیا پاکستان میں جاگیرداری نظام ہے؟
جاگیر دار اور وڈیرے عوامی ووٹوں پر قابض ہیں۔ اسمبلیوں میں
بیٹھے ہیں۔ اور عوام پر ظلم ڈھانے میں پیش پیش ہیں۔ یہ بات کسی حد تک سچ ہے۔ لیکن
پاکستان کے جاگیر داروں کو جاگیر دار کہنا ہی غلط ہے۔ کیونکہ یہ بہت چھوٹے چھوٹے
زمیندار ہیں۔ یہاں پانچ سو ایکڑ والے زمیندار کو بھی بہت بڑا جاگیردار سمجھا جاتا ہے۔
جو کہ یورپی سٹینڈرڈ سے بہت کم زمین ہے۔ خاص طور پر پنجاب میں 1950 ء کی دھائی کی
آخر میں ایوب خان اور 1970ء کی دھائی میں بھٹوزرعی اصطلاحات کی وجہ سے جاگیر داری
بہت کم ہو گئی ہے۔ جو جاگیر دار ہین بھی ان کی طاقت ان کی زمینوں کی وجہ سے نہیں
بلکہ ان کے خاندانوں اور قبیلوں کی وجہ سے ہے۔ اس لیے جاگیرداری نظام پاکستان کی
سیاست پر اس طرح اثر انداز نہیں ہوتاجیسا کہ سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ اصل میں یہ
برادری سستم ہے جو سیاست کو کنٹرول کرتا ہے۔ یعنی کہ پاکستان بڑی حد تک ریوایتی
اور جاگیرداری نظام سے پاک ہے۔ اور اس بارے میں زیادہ تر کی جانے والی باتیں
پروپیگنڈا یا پرانی انفارمیشن کی وجہ سے کی جاتی ہیں ۔
کیا پاکستان ایک کنزرویٹو/قدامت پسند ملک ہے؟
مغرب میں یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ پاکستان ایک
انتہاپسند ملک ہے اور اس کے لوگ ہر وقت ایک کٹر مذہبی انقلاب کے لیے تیار رہتے
ہیں۔ لیکن حقیقت یہ کہ پاکستان کا خاندانی نظام اصل میں انتہا پسندی کا دشمن ہے۔ خواہ
یہ انتہا پسندی مذبی ہو یا نسلی۔ لوگوں کوکسی خاص نظریے پر اکٹھا کر کے کوئی خون
خرابا پاکستان میں نہیں کرایا جا سکتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ پاکستان کے
خاندانی نظام میں لوگ اپنے خاندان اور قریبی رشتہ داروں کے علاوہ عام طور کسی
دوسرے پر اعتماد نہیں کرتےاور اگر انہیں نسل اور مزہب کے نام پر تقسیم بھی کیا
جائے تو وہ سیاسی نظام سے اپنا حصہ وصول کرنے کےلئے اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یعنی
الیکشن وغیرہ لڑنے لگتے ہیں ۔ اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں اور پر امن طریقے سےمفادات
حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہین اور اس کے لیےعام طور ہتھیار نہیں اٹھاتے۔ یوں
پاکستانی کا خاندانی نظام جس میں یقیناً بہت سے مسائل بھی ہیں وہ آخر کار پاکستان
کی قومی وحدت کے لیےایک ڈھال کا کام بھی دیتے ہیں۔
پاکستان اتنا سخت جان ملک ہے کہ کوئی قحط ، کوئی بغاوت،
کرپشن یا بد نظمی اسے گرا نہیں سکتی۔ اگر کوئی چیز پاکستان کو گرا سکتی ، اسے ختم
کر سکتی ہے تو وہ صرف ایک ہے۔ وہ ہے موسمیاتی تبدیلی۔ جیسے کہ سمندروں میں پانی کی
سطح بہت بلند ہو جائے۔ یا دریا سوکھ جائیں یا جیسے کورونا وائریس جیسی کوئی وبا
پھوٹ پڑے اور بڑے پیمانے پر انسانی المیے کا باعث بن جائے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اگر
ایسا ہو گا تو پاکستان وہ اکیلا ملک نہیں ہو گاجو گرے یا نقصان میں رہےبلکہ براعظم
افریقہ ، امریکہ ، عرب خطے اور فارایسٹ
میں بہت سے ممالک صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔ تو یہ تنہا پالستان کا ہی مسئلہ نہیں۔
تو پاکستان ایک سخت جان ملک ہے۔ جو لوگ اکانومیکلی ، دہشت گردی ، خانہ جنگی یا
بیرونی سازشوں کے نتیجے میں پاکستان کا خاتمہ دیکھتے ہیں وہ دراصل احمقوں کی جنت
میں رہتے ہیں۔



Comments
Post a Comment
If you have any doubt, please let me know.